Tuesday, February 17, 2015

      

لاہور میں آج پولیس لائن کے قریب زوردار دھماکہ ہوا، لمحے بھر میں ہلاکتوں کی خبریں بریکنگ کا   حصہ بننے لگیں،،، ایک دوست اس خبر سے لاعلم بیٹھے تھے ان سے فون پر بات ہوئی تو میرے توسط سے انکو خبر ملی،،، پوچھنے لگے کہ دھماکے کی نوعیت کیا ہے مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے، میں نے جواب دیا کہ دھماکہ بڑا ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تعداد آٹھ تک جا پہنچی ہے جو آگے بڑھ بھی سکتی ہے،،، دوست فرمانے لگے کہ او یعنی دھماکہ اتنا شدید نہیں، خیر یہ تو روز کی بات ہے اور سناو کیا ہو رہا ہے؟  انکا یہ کہنا دل میں پھانس کی طرح چبھ گیا.   یہ وہی صاحب ہیں جن کے بچے  گلشن اقبال کےاس اسکول میں زیر تعلیم تھے جہاں کچھ دن قبل کریکر پھینکا گیا تھا اس واقعے کے بعد موصوف نے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا کہ سیکیورٹی نہیں ہے، سنا ہے کہ کچھ ماہ بعد ان کابمعہ اہل وعیال بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کا ارادہ بھی ہے۔ اچھی بات ہے جان چھوٹے گی ایک ایسے ملک سے جہاں دھماکے کی نوعیت پوچھ کر اسکی شدت پر بات کو بڑھایا جاتا ہے، کیا ضرورت ہے ایسے ملک میں رہنے کی جہاں مرنے والوں پر غم نہیں کیا جاتا صرف سیاسی جماعتوں کا تعزیتی بیان نیوز چینلز کو فیکس کردیا جاتا ہے،،، کون رہے ایسے ملک میں جہاں کے رہنے والے یہ کہتے ہوں کہ او اس بار لاہور کا نمبر آیا ورنہ تو کوئٹہ اور پشاور ہی بازی لیکر رکھتا ہے، کون جئیے اس ملک میں جہاں رپورٹرز کہتے ہوں کہ چلو جی کام ختم آج لاہور کے رپورٹرز ہی بلیٹن میں نظر آئیں گے ہم بے حس نہیں ہوئے،،، کردئیے گئے ہیں، ہم نے روز ایسے واقعات دیکھے کہ اب سامنے رونما ہونے والے واقعے کو ماضی میں ہونے والے سانحے سے موازنہ کر کے تجزیہ دے ڈالتے ہیں میں نے اپنے بچپن میں اسکول جانے کی عمر میں کراچی میں کرفیو لگتے دیکھا، آپریشن کے نام پر لاشوں کو گرتے اور اسکولوں کو جبرا بند ہوتے دیکھا،  دوجمہوری حکومتوں کو رول بیک ہوتے اور 1999 میں مشرف کو حکومت میں آتے دیکھا،، ریاستی آپریشن سمیت ٹارگٹ کلنگ اور لسانی، مذہبی بنیادوں پر خون بہتے دیکھا، جو نہیں دیکھا وہ والدین نے بتایا یا پھر اخبارات سے پڑھ کر معلومات میں اضافہ کیا                 

                    سیاسیات کی طالبہ ہوتے ہوئے کئی اہم اسائنمنٹ ان ہی حالات پر بنائے ایک بار کراچی کے حالات پر   دس نمبر کا اسائنمنٹ ملا تو کئی پوائنٹر اور کاغذوں کے دستے ختم ہوئے لیکن واقعات ختم نہ ہوئے، یہ تو صرف کراچی کا حال تھا اگر پاکستان پراسائنمنٹ ملتا تو شاید کئی سال لگ جاتے۔۔ اسائمنٹ کو جیسے تیسے ختم کر کے سوچا کہ کیا قوم ہیں ہم؟ کلمے کے نام پر ملک بنایا، ہندوں اور سکھوں کے مظالم کا نشانہ بنے تو آزادی مانگ ڈالی، پھر خود بنگالیوں پر ظلم کیا تو انھوں نے ہم سے نجات مانگی،،، انکو آزاد کیا تو ٹوٹی پھوٹی جمہوریت لانے کی سودے بازی کی اور پھر ایک آمر آیا اور اس قوم کو پروکسی وار میں شامل کر کے پاک سرزمین کو افغانیوں، کلاشنکوف، ہیروئین کا تحفا دیکر چلتا بنا، اس وقت ہمارے لئے سوویت یونین کے خلاف جنگ جہاد تھی، وقت گزرا تو یہ جہادی حرام ہوگئے نواز اور بے نظیر کی میوزیکل چئیر کسے یاد نہیں جو بھی آیا صفائی مہم کا آغاز کیا،،، کئی لاشیں گریں اور پھر حکومتیں بھی گر گئی، مشرف کیا تھا کیسا تھا یہ علیحدہ بحث ہے لیکن افغانستان میں امریکہ نے جو "جہاد" لڑا اس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں خودکش دھماکے، ڈرون حملوں میں ہزاروں لوگ مر گئے، اور مرنے کے بعد اس بات کی بحث الگ چھڑ گئی کہ کون شہید ہے اور کون نہیں؟  جب بھی کوئی مر جاتا ہم ماضی میں چلے جاتے اور اندازہ لگاتے کہ یہ واقعہ بڑا ہے یا پہلے والا؟

                                            واقعات بہت ہیں فہرست طویل ہے لیکن چند ایک ہی پر نظر ڈالی جائے تو بہت ہے جیسے کہ 2008 میں 12 ربیع الاول  کے روزنشتر پارک میں ہونے والا دھماکہ اور لاشیں کسی حکمران کے دل کو دہلا نہ سکے 2009 میں عاشورہ کے جلوس میں دھماکہ ہوا تو کئی لوگ جان سے گئے، حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی، اہم عمارتیں دھماکے سے اڑا دی گئیں کوئی فرق نہیں پڑا،  2013 جنوری کوئٹہ کی سرد رات کسی حکمران کو جھجھوڑ نہ سکی جب ہزارہ کمیونٹی کے بے یارو مدد گار اپنے پیاروں کے100 سے زائد لاشے رکھے خاموش احتجاج کرتے رہے  انکی چپ، اور لہو جما دینے والی سردی میں آنکھوں سےٹپکتے آنسووں نے میری نیند بھوک سب چھین لی اس وقت پڑھی جانے والی نماز میں دعا یہی ہوتی تھی کہ خدارا  اب کوکسی کو رحم آجائے لیکن ایسا نہیں ہوا، 16 دسمبر 2014 کو دلوں پر وار ہوا، 147 ہلاکتیں پشاور آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ کسی حکمران کو رلا نہ سکا، زبانی جمع خرچ ہوئی، اے پی سی میں نواز اور عمران ساتھ بیٹھے مسکرائے اور پھر ہنسے یہی بریکنگ نیوز بن گئی،، دسمبر 2012 امریکہ کے سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا جس میں 20 بچے مارے گئے اس واقعہ نے سپر پاور ملک کے طاقتور ترین صدر کو ہلا ڈالا، اور آنکھوں سے آنسو رواں کرڈالے۔ ایک اسکول وہ تھا جہاں 20 بچے موت کی گھاٹ اتار دئیے گئے ایک اسکول یہ  ہے۔جہاں دہشت گردوں نے 147 ماوں کے لعل چھین لئے لیکن حکمران کا نہ تو دل پسیجا نہ آنکھ میں آنسو آیا،،، کیوں آتا ؟ آخر یہ تو روز کی بات ہے آج بھی لاہور میں دھماکے  کے وقت کئی مائیں بدحواسی میں جائے وقوعہ کی جانب دوڑتی نظر آئیں لیکن ماوں کے ساتھ گھروں کو واپس لوٹنے والے اسکول کے بچوں کے چہروں پر کوئی تاثرات نہ تھے کیونکہ  وہ ہوش سنبھالنے سے لیکر اب تک یہی تو دیکھتے آئیں ہیں اور جب یہ جوان ہوں گے تو  ان کا بھی یہی کہنا ہوگا کہ دھماکہ کہاں ہوا؟ نوعیت کیا ہے؟ کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ اچھا اس کا مطلب ہے کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا،، ویسے بھی یہ تو روز کی بات ہے !!!