Tuesday, April 7, 2015

جعلی ایوان میں اصلی اراکین کا استقبال

کیا کسی نے سوچا تھا کہ پی ٹی آئی اسمبلی میں واپس آئے گی؟ شاید نہ سوچا ہو لیکن جو لوگ سیاست کے کھیل پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ان کے لئے کل کا واقعہ حیران کن نہیں، میڈیا میں ایک ماہ سے جاری ایم کیو ایم پر یہ بحث کہ لیڈر اور کارکنان کے درمیان ہم آہنگی کی کمی سے پارٹی کے وقار کو نقصان کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے اس کا مظاہرہ کل بھی دیکھا گیا فرق صرف اتنا کہ کردار مختلف تھے اس بار ایم کیو ایم نہیں پی ٹی آئی نے اس کا عملی مظاہرہ کیا، اس سے قبل بھی بارہا عمران خان یو ٹرن لے چکے ہیں لیکن کنٹینر پر شہرہ آفاق سیاست گردی میں انھوں نے پارلیمنٹ کو جعلی قرار دیا، پارلیمنٹ میں اپنے ٹائیگرز کو گھسنے ، پارلیمنٹیرینز کو گھسیٹ کر باہر لانے کی متعدد بیانات سے نوجوانوں کے لہو کو گرمایا، سرد راتوں میں لہو کو گرم رکھنے کا جو بہانہ کنٹینر سے دیا گیا اس پر اقبال کے شعر کی نئی تشریح بھی سوشل میڈیا کی زینت بنی ،  لیکن جب پارلیمنٹ پر حملے کی بات آئی تو باغی پی ٹی آئی سے باغی ہوگیا، جاوید ہاشمی جن کی پوری زندگی سیاست میں گزری اور آمریت کے خلاف وہ سینہ سپر رہے ان سے اپنے پارٹی کے قائد کے یہ الفاظ برداشت نہ ہوئے اور انھوں نے اپنے راستے جدا کرلئے، وہی جاوید ہاشمی جو مسلم لیگ ن سے جب پی ٹی آئی میں آئے توانھیں مسلم لیگیوں  نے خوب کوسا لیکن پارلیمنٹ کی عزت اور وقار کے لئے باغی کا اٹھایا جانے والا قدم ناقدین کے منہ بند کرگیا وہ اکیلا تھا لیکن اس کا عمل سب سے بڑا تھا،،،، 11 مئی 2013 میں بننے والی یہ جعلی پارلیمنٹ اس وقت جعلی نہ تھی جب خان صاحب اور انکے ساتھیوں نے اس اسمبلی میں حلف لیا، یہ پارلیمنٹ تب بھی جعلی نہ تھی جب خیبر پختونخواہ میں حکومت بنی، یہ پارلیمنٹ تب بھی جعلی نہ تھی جب اس میں معمول کے اجلاسوں میں شرکت کرنے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی آتے تھے، نہ جانے وہ کونسا امپائر تھا جس کے اشارے پر اسلام آباد کو دھرنا چوک بنایا گیا، اسمبلی جعلی ہوگئی، اراکین جعلی ہوگئے، بات چھ حلقوں سے شروع ہوئی اور پھر ہر حلقہ دھاندلی زدہ ہوگیا سوائے ان حلقوں کے جہاں سے تحریک انصاف جیتی، میں ان حلقوں کا سروے کرنے کی خواہشمند ہوں اور یہ جاننا چاہتی ہوں  کہ 7۔7 ملین ووٹ لیکر 28 نشستیں جیتنے والی تحریک انصاف  کہ کیا صرف یہی حلقے دیانتدار، مخلص اور حب الوطن ووٹرز پر مبنی تھے؟  تو طے ہوا کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی  کے اراکین اسمبلی اصلی اور پوری پارلیمنٹ  جعلی ہے، لیکن 7 ماہ سے زائد کے عرصے کے بعد اس جعلی اسمبلی میں خان صاحب اور  انکے ساتھیوں کی واپسی کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس  ہورہا تھا کہ جیسے یہ اسمبلی  صرف اس نشتوں پر مشتمل ہے جو پی ٹی آئی نے جیتی، ہال میں داخل ہونے والے اراکین کے چہرے بتا رہے تھے کہ ان کو اندازہ ہے کہ  جو کچھ وہ اسلام آباد ڈی چوک میں کنٹینر پر کرتے رہے ہیں آج اس کا ٹریلر چل سکتا ہے، کچھ کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ خان صاحب کے یو ٹرن کو بھگتنے کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں، بالکل وہی تاثرات جو اکثر ایم کیو ایم کے اراکین کے چہروں پر اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ میڈیا اور پریس کے سامنے اپنے بیانات ٹھوک بجا کر دیتے ہیں اور پھر لندن والی سرکار اس سے مختلف بیان دیتی ہے تو بیچارے  ایم کیو ایم کے اراکین وضاحتی بیانات دینے ایک بار پھر میڈیا پر براجمان ہوتے ہیں،

ٹاک شو میں کئی کئی لوگوں کی زبانیں بند کرنے والے نوجوان رکن اسمبلی مراد سعید جن کی ڈگری  کےمشکوک ہونے کے چرچے میڈیا  کی زینت بنے رہے انھوں نے پارلیمنٹ کی درو دیوار اور چھت کو کچھ  اس انداز سے دیکھا جیسے انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ وہ آج جعلی اسمبلی میں واپس آگئے ہیں، عارف علوی جو کراچی شہر میں تن تنہا کراچی کی ڈری سہمی عوام کو خوف سے نجات دلانے والے واحد نجات دہندہ بنے ہوئے ہیں خواجہ آصف کی شعلہ بیانیوں پریہ کراچی کا یہ مرد بحران اپنی سیٹ پر ایسے نظر آیا جیسے رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہو، برابر میں بیٹھے رشید گوڈیل نے خواجہ آصف کے طعنوں پرڈیسک بجاتے رہے وہ تو الطاف بھائی بعد میں خبر لیں گے کہ ان کے بیانات پر گوڈیل صاحب کے ہاتھوں کی توانائی کہاں چلی جاتی ہے۔ اسمبلی سینشن میں  خواجہ آصف کا کردار ایسا محسوس ہوا جیسے اسکول میں گروپ کو ملنے والے اسائمنٹ پر گروپ لیڈراکیلا اپنی ٹیچر کو ثابت کر رہا ہو کہ میڈم میں اور میری ٹیم دن رات اس اسائمنٹ پر کام کرتے رہے ہیں اور آپ نے پورے نمبر دینے ہیں،،، اور دل میں کہہ رہا ہو کہ کلاس ختم ہو تو باہر نکل کر نمٹ لوں گا، کہ کام میں کروں اور ڈیسک یہ بجائیں، اسمبلی میں پی ٹی آئی یمن میں ہونے والی صورتحال اور خطے میں کشیدگی پر بحث کر نے آئی لیکن ان کا استقبال ایسا ہوا جیسے حوثی باغیوں نے ان پر دھاوا بول دیا ہو، پی ٹی آئی کو یمن سے تشبیہ اس لئے دی کہ جناب وہ اصلی ہیں پارلیمنٹ میں کچھ جگہیں اصلی اور باقی حوثی باغیوں (حکومت، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر) کے قبضے میں ہے۔ یمن اور سعودی عرب کی صورتحال میں پاک فوج کا کیا کردار ہونا چائیے اس پر اسمبلی کی رائے عامہ اور اعتماد ہی اس سیشن کا اصل موضوع تھا لیکن خواجہ آصف بطور وزیر دفاع پالیسی بیان کرنے کے بجائے پارٹی کا دفاع اور حملے کا منصوبہ لیکر جعلی پارلیمنٹ میں اترے، شرم و حیا، غیرت، عزت کے موضوع پر بات کرتے وقت خواجہ آصف بھول بیٹھے کہ وہ آج اسمبلی میں کیا کرنے آئے ہیں بس سامنے اصلی لوگوں کو دیکھ کر  جیلس ہوگئے۔ کل کے اجلاس میں ایک بات پر بحث نہیں ہوئی کہ ٹائیگرز پی ٹی آئی کے اصلی ہیں یا مسلم لیگ ن کے؟ اگر اس پر بھی بات ہوجاتی تو کیا جاتا؟ یمن کے مسئلے پر تو بات پھر بھی ہوسکتی ہے ٹائیگرز کا معاملہ زیادہ اہم ہے، خان صاحب شادی کے بعد اسمبلی آئے تو بجائے دولہا میاں کو مبارکباد ملتی، کوئی سلامی دی جاتی لیکن جعلی مینڈیٹ رکھنے والے جعلی اراکین جیلسی کا شکار ہی نظر آئے، اس ملک کا سب سے اہم مسئلہ اب  مہنگائی، دہشت گردی ، بے ایمانی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کا بحران نہیں شادی ہے، آ جا کر شادی کو ہی موضوع میں ایسے لایا جاتا ہے جیسے ناراض پھپھو کو بارات جانے سے کچھ لمحہ قبل منا کر لایا جاتا ہے، کل کے سیشن میں  جو کچھ ہوا اس پر الطاف حسین بھائی نے شادی، طلاق، حلالے سے تشبیہہ دیکر اپنے دل کا حال بیان کر ڈالا، فرمایا کہ کس منہ سے اسمبلی میں پی ٹی آئی آئی ہے، حیرت ہے کہ کوئی خواجہ آصف جیسا منچلا اسمبلی میں بول نہ سکا کہ جیسے پیپلز پارٹی کے ساتھ  حکومت میں  شمولیت  اور علیحدگی آپ کی پارٹی کا مشغلہ رہی ہے اسی طرح پی ٹی آئی نے بھی "رجوع" کرلیا، سیاست اپنی جگہ لیکن ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی ایک معاملے میں بازی لے جائے گے کہ سیاست میں لچک کی تعریف کو ان دونوں سیاسی جماعتوں نے صحیح معنوں میں  استعمال کیا، اگر کوئی سیاسیات کے موضوع پر کتاب لکھی جائے تو شاید اسکا عنوان "سیاسی حلالہ" ہوسکتا ہے جس کے ذریعے کئی نئے سیاستدانوں کو رہنمائی مل سکتی ہے۔ ہمیں تو کل کا اجلاس دیکھ کر شدت سے صرف اس بات کا احساس ہوا کہ جعلی پارلیمنٹ کے نقلی اراکین اسمبلی کو اصلی اراکین اسمبلی کی شان میں گستاخی کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اصل اصل ہوتا ہے چاہے وہ اقلیت میں ہی کیوں نہ ہو۔

Tuesday, February 17, 2015

      

لاہور میں آج پولیس لائن کے قریب زوردار دھماکہ ہوا، لمحے بھر میں ہلاکتوں کی خبریں بریکنگ کا   حصہ بننے لگیں،،، ایک دوست اس خبر سے لاعلم بیٹھے تھے ان سے فون پر بات ہوئی تو میرے توسط سے انکو خبر ملی،،، پوچھنے لگے کہ دھماکے کی نوعیت کیا ہے مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے، میں نے جواب دیا کہ دھماکہ بڑا ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تعداد آٹھ تک جا پہنچی ہے جو آگے بڑھ بھی سکتی ہے،،، دوست فرمانے لگے کہ او یعنی دھماکہ اتنا شدید نہیں، خیر یہ تو روز کی بات ہے اور سناو کیا ہو رہا ہے؟  انکا یہ کہنا دل میں پھانس کی طرح چبھ گیا.   یہ وہی صاحب ہیں جن کے بچے  گلشن اقبال کےاس اسکول میں زیر تعلیم تھے جہاں کچھ دن قبل کریکر پھینکا گیا تھا اس واقعے کے بعد موصوف نے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا کہ سیکیورٹی نہیں ہے، سنا ہے کہ کچھ ماہ بعد ان کابمعہ اہل وعیال بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کا ارادہ بھی ہے۔ اچھی بات ہے جان چھوٹے گی ایک ایسے ملک سے جہاں دھماکے کی نوعیت پوچھ کر اسکی شدت پر بات کو بڑھایا جاتا ہے، کیا ضرورت ہے ایسے ملک میں رہنے کی جہاں مرنے والوں پر غم نہیں کیا جاتا صرف سیاسی جماعتوں کا تعزیتی بیان نیوز چینلز کو فیکس کردیا جاتا ہے،،، کون رہے ایسے ملک میں جہاں کے رہنے والے یہ کہتے ہوں کہ او اس بار لاہور کا نمبر آیا ورنہ تو کوئٹہ اور پشاور ہی بازی لیکر رکھتا ہے، کون جئیے اس ملک میں جہاں رپورٹرز کہتے ہوں کہ چلو جی کام ختم آج لاہور کے رپورٹرز ہی بلیٹن میں نظر آئیں گے ہم بے حس نہیں ہوئے،،، کردئیے گئے ہیں، ہم نے روز ایسے واقعات دیکھے کہ اب سامنے رونما ہونے والے واقعے کو ماضی میں ہونے والے سانحے سے موازنہ کر کے تجزیہ دے ڈالتے ہیں میں نے اپنے بچپن میں اسکول جانے کی عمر میں کراچی میں کرفیو لگتے دیکھا، آپریشن کے نام پر لاشوں کو گرتے اور اسکولوں کو جبرا بند ہوتے دیکھا،  دوجمہوری حکومتوں کو رول بیک ہوتے اور 1999 میں مشرف کو حکومت میں آتے دیکھا،، ریاستی آپریشن سمیت ٹارگٹ کلنگ اور لسانی، مذہبی بنیادوں پر خون بہتے دیکھا، جو نہیں دیکھا وہ والدین نے بتایا یا پھر اخبارات سے پڑھ کر معلومات میں اضافہ کیا                 

                    سیاسیات کی طالبہ ہوتے ہوئے کئی اہم اسائنمنٹ ان ہی حالات پر بنائے ایک بار کراچی کے حالات پر   دس نمبر کا اسائنمنٹ ملا تو کئی پوائنٹر اور کاغذوں کے دستے ختم ہوئے لیکن واقعات ختم نہ ہوئے، یہ تو صرف کراچی کا حال تھا اگر پاکستان پراسائنمنٹ ملتا تو شاید کئی سال لگ جاتے۔۔ اسائمنٹ کو جیسے تیسے ختم کر کے سوچا کہ کیا قوم ہیں ہم؟ کلمے کے نام پر ملک بنایا، ہندوں اور سکھوں کے مظالم کا نشانہ بنے تو آزادی مانگ ڈالی، پھر خود بنگالیوں پر ظلم کیا تو انھوں نے ہم سے نجات مانگی،،، انکو آزاد کیا تو ٹوٹی پھوٹی جمہوریت لانے کی سودے بازی کی اور پھر ایک آمر آیا اور اس قوم کو پروکسی وار میں شامل کر کے پاک سرزمین کو افغانیوں، کلاشنکوف، ہیروئین کا تحفا دیکر چلتا بنا، اس وقت ہمارے لئے سوویت یونین کے خلاف جنگ جہاد تھی، وقت گزرا تو یہ جہادی حرام ہوگئے نواز اور بے نظیر کی میوزیکل چئیر کسے یاد نہیں جو بھی آیا صفائی مہم کا آغاز کیا،،، کئی لاشیں گریں اور پھر حکومتیں بھی گر گئی، مشرف کیا تھا کیسا تھا یہ علیحدہ بحث ہے لیکن افغانستان میں امریکہ نے جو "جہاد" لڑا اس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں خودکش دھماکے، ڈرون حملوں میں ہزاروں لوگ مر گئے، اور مرنے کے بعد اس بات کی بحث الگ چھڑ گئی کہ کون شہید ہے اور کون نہیں؟  جب بھی کوئی مر جاتا ہم ماضی میں چلے جاتے اور اندازہ لگاتے کہ یہ واقعہ بڑا ہے یا پہلے والا؟

                                            واقعات بہت ہیں فہرست طویل ہے لیکن چند ایک ہی پر نظر ڈالی جائے تو بہت ہے جیسے کہ 2008 میں 12 ربیع الاول  کے روزنشتر پارک میں ہونے والا دھماکہ اور لاشیں کسی حکمران کے دل کو دہلا نہ سکے 2009 میں عاشورہ کے جلوس میں دھماکہ ہوا تو کئی لوگ جان سے گئے، حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی، اہم عمارتیں دھماکے سے اڑا دی گئیں کوئی فرق نہیں پڑا،  2013 جنوری کوئٹہ کی سرد رات کسی حکمران کو جھجھوڑ نہ سکی جب ہزارہ کمیونٹی کے بے یارو مدد گار اپنے پیاروں کے100 سے زائد لاشے رکھے خاموش احتجاج کرتے رہے  انکی چپ، اور لہو جما دینے والی سردی میں آنکھوں سےٹپکتے آنسووں نے میری نیند بھوک سب چھین لی اس وقت پڑھی جانے والی نماز میں دعا یہی ہوتی تھی کہ خدارا  اب کوکسی کو رحم آجائے لیکن ایسا نہیں ہوا، 16 دسمبر 2014 کو دلوں پر وار ہوا، 147 ہلاکتیں پشاور آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ کسی حکمران کو رلا نہ سکا، زبانی جمع خرچ ہوئی، اے پی سی میں نواز اور عمران ساتھ بیٹھے مسکرائے اور پھر ہنسے یہی بریکنگ نیوز بن گئی،، دسمبر 2012 امریکہ کے سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا جس میں 20 بچے مارے گئے اس واقعہ نے سپر پاور ملک کے طاقتور ترین صدر کو ہلا ڈالا، اور آنکھوں سے آنسو رواں کرڈالے۔ ایک اسکول وہ تھا جہاں 20 بچے موت کی گھاٹ اتار دئیے گئے ایک اسکول یہ  ہے۔جہاں دہشت گردوں نے 147 ماوں کے لعل چھین لئے لیکن حکمران کا نہ تو دل پسیجا نہ آنکھ میں آنسو آیا،،، کیوں آتا ؟ آخر یہ تو روز کی بات ہے آج بھی لاہور میں دھماکے  کے وقت کئی مائیں بدحواسی میں جائے وقوعہ کی جانب دوڑتی نظر آئیں لیکن ماوں کے ساتھ گھروں کو واپس لوٹنے والے اسکول کے بچوں کے چہروں پر کوئی تاثرات نہ تھے کیونکہ  وہ ہوش سنبھالنے سے لیکر اب تک یہی تو دیکھتے آئیں ہیں اور جب یہ جوان ہوں گے تو  ان کا بھی یہی کہنا ہوگا کہ دھماکہ کہاں ہوا؟ نوعیت کیا ہے؟ کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ اچھا اس کا مطلب ہے کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا،، ویسے بھی یہ تو روز کی بات ہے !!!